نئی دہلی ، یکم مارچ (ایس او نیوز) نیوز 18 کی طرف سے 'غزوہ ہند' کے عنوان سے چلائے گئے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پروگرام کو نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹانڈرڈس اتھاریٹی (NBDSA) نے قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے چینل پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے اور اس پروگرام کے مواد کو یوٹیوب سمیت دیگر تمام پلیٹ فارمس سے ہٹانے کا حکم جاری کیا ہے ۔
یاد رہے کہ نیوز 18 نے 5 اگست 2022 کی شام کو "غزوہ ہند" عنوان کے تحت " دیش نہیں جھکنے دیں گے" پروگرام چلایا تھا جس میں اینکر امن چوپڑہ نے آسام ، مغربی بنگال، اتر پردیش، راجستھان اور اتراکھنڈ جیسے اضلاع کے سرحدی علاقوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مسلم آبادی کو ملک کی سلامتی اور ہندو راشٹرا کے لئے خطرناک بتاتے ہوئے پوری مسلم قوم کے خلاف دیگر شہریوں کے ذہنوں میں نفرت اور اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ۔
پریس ریلیزجاری کرتےہوئے اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئےاے پی سی آر نے سب سے پہلے 8 اگست 2022 کو مذکورہ چینل کے پاس اس پروگرام کی نفرت انگیز مہم کے خلاف شکایت درج کروائی۔ لیکن چینل کی طرف سے اطمینان بخش جواب نہ ملنے پر اے پی سی آر نے 28 اگست کو براہ راست این بی ڈی ایس اے کے پاس شکایت درج کروائی۔ این بی ڈی ایس اے نے 11 نومبر 2022 کو دونوں فریقین کو طلب کیا اور معاملہ کی سماعت کے بعد 27 فروری 2023 کو فیصلہ سنایا اور چینل کو پابند کیا کہ 6 مارچ 2023 تک اس فیصلہ پر عمل پیرائی ہو۔
نیوز 18 کے اینکر امن چوپڑہ نے اپنے متنازعہ پروگرام کے دوران "پوری دنیا سے مسلمان ہندوستان میں ہی آئیں گے، اور کہتے ہیں ہندوستان میں مسلمان خطرے میں ہیں"، "شعیب کہہ رہے ہیں کہ گھس پیٹھیوں کا کوئی دھرم نہیں ہوتا تو پھر ایک ہی دھرم کے لوگوں کی جن سنکھیا بارڈرس پر کیسے بڑھ رہی ہے؟"، "یہ (احتجاج کرنے والے مسلمان) غیر ملکی مسلمانوں کے لئے دیش میں آگ لگا دیتے ہیں، شاہین باغ (احتجاج) کرتے ہیں۔۔۔"، "بارڈر پر مسلم آبادی اتنی تیزی سے بڑھی ہے ۔۔۔۔ جسے 'جن سنکھیا جہاد' کہا جا رہا ہے"، بارڈر پر بھارت کو برباد کرنے کا پلان ہے، ویسے کہنے کو ہندو راشٹرا ہے لیکن بارڈر مسلم ہوگئے ہیں"، "کاغذ نہیں دکھائیں گے ، بھگائے جائیں گے"، "۔۔۔اینٹری پوائنٹس پر اگر اپنے دھرم کے لوگ ہونگے تو پھر آسانی بھی ہوگی ۔۔۔ وہیں شرن بھی مل جائے گی" اور " ہندوستان میں ہندو کبھی گھس پیٹیا نہیں ہوسکتا" جیسے اشتعال انگیز اور منافرت بھرے جملے کہے تھے ۔
اس کے علاوہ پروگرام کے دوران "# بارڈر پر پان اسلام"، "بارڈر پر اسلامی کرن پورا"، بارڈر پر بڑھے بھائی جان - خطرناک ہے پلان؟" اور "بارڈر پر غزوہ بارود بچھ گیا ہے" جیسے بہت سے جارحانہ اور اشتعال انگیز 'ٹِکّرس' بھی اسکرین پر چلائے گئے تھے ۔
این بی ڈی ایس اے نے معاملہ کی سماعت کے دوران اس متنازعہ پروگرام میں کہے بہت سے جملوں کو نامناسب اور قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل سیکیوریٹی سے متعلقہ مسئلہ کو پوری طرح فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ براڈکاسٹنگ کے معیاری اصولوں اور رہنما ہدایات اور اخلاقیات کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ اس لئے چینل کو 20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے علاوہ اس پروگرام کو اپنے چینل اور یوٹیوب سے ہٹانے کے ساتھ اس کے تمام ہائپر لنکس بھی 7 دن کے اندر ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ اس مسئلہ کو اے پی سی آر نے پوری سنجیدگی سے لیا تھا کیونکہ اس میں ایک خاص طبقہ کی آبادی میں اضافہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جس کا مقصد محض قیاس آرائیوں کے ذریعے عام آبادی کو گمراہ کرنا اوران کے ذہن میں ایک خاص مذہب اور طبقہ کے تعلق سے خوف و دہشت پیدا کرنا تھا۔
اس پروگرام کے خلاف اے پی سی آر کی طرف سے ایم حذیفہ نے اپنی شکایت درج کروائی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں جب نفرت انگیزی کی مہم خوفناک صورت اختیار کر چکی ہے تو این بی ڈی ایس اے جیسے اداروں کو فوری طور پر کوئی ایسا شفاف میکانزم وضع کرنا چاہیے جس سے اس طرح کی اشتعال انگیزی پر روک لگائی جا سکے ۔ انہوں نے کہا :"سماج کی ترقی اور امن کو مزید نقصان پہنچنے سے قبل اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تعصب کی لہر پر فوراً روک لگنی چاہیے۔"
حذیفہ نے کہا کہ این بی ڈی ایس اے کی طرف سے یہ جو فیصلہ آیا ہے وہ نفرت کے سہارے مفاد حاصل کرنے والے میڈیا اور سیاست کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے اور اس پر روک لگانے کی طرف ایک چھوٹا سا قدم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزیوں کے معاملوں کو درست کرنے کا طریقہ اطمینان بخش نہیں ہے اور متاثرہ فریق کو کوئی راحت مل نہیں پاتی۔
اے پی سی آر کی جانب سے این بی ڈی ایس اے کے سامنے ایڈوکیٹ تمنا پنکج نے بڑی خوش اسلوبی سے اس معاملہ کی پیروی کی۔